APCA Header
آہم خبریں
حیدرآباد: 4/4 الوداعی پارٹی میں مختلف رہنمائوں نے خطاب اور مسٹر نیاز کی خدمات پر اپیکا اور ریلوے محنت کش مزدور یونین نے ملازمین حقوق کیئے کام کرنے پر زور دیا ٬ منظور ملاح نے کہا کہ نیاز قیادت میں ریلوے میں جو مستقبل ریفرینڈ م ہو رہا ہے اس میں بڑی جیت حاصل ہوگی
حیدرآۃاد: 3/4 اپیکا شہید ساقی کے صوبائی صدراعجاز بہٹو٬ احسان علی مگسی٬ عندالغفور عباسی٬ غلام نبی سیال٬ عمران علی جکہرو٬ احسان عالمانی و دیگر شریک ہوئےاس موقعہ پر ساتھیوں نےپھولوں اور نوٹوں کے ہار پہنائے٬ سندھی ٹوپیوں کے تحفے اور سندھی اجرک اور لونگیان پیش کی گئی
حیدرآباد: 2/4 جس میں ریلوے محنت کش مزدور یونین رہنما و وکرز اور افسران نے شرکت کی اور مرکزی چیئرمین اپیکا شھید ساقی کے ذوالفقار علی شیخ و دیگر شریک ہوئےارو ایم اے بھرگڑی نے سندھی اجرک کا تحفہ اور اپیکا شہید ساقی جانب سے اعزازی شیلڈ دی
حیدرآباد: ایپکا پاکستان شہید ساقی کے مرکزی صدر نیاز حسین کو ٬ ریلوے محنت کش مزدور یونین کے رہنما منظور ملاح٬ مسٹر مٹھا خان خاصخیلی و دیگر نے ریٹائرمنت سے پہلے پالکی شادی ہال حیدرآباد میں الوداعی پارٹی دی گئی 1/4
حیدرآباد: مرنے کا شرط ختم کرکے گروپ انشورنس اور بہبود فنڈ کی رقم یکمشت ریٹائرمنت کے وقت ادا کی جائے ٬ 3 سے 6 ارب روپیہ حکومت کو سالانہ بچت ہوتی ہے- ایپکا شہید ساقی سندھ
اسلام آباد: دونوں اب بنیادی تنخواہ میں مستقل طور پر شامل ہو گئے ہیں، جو 1 جولائی 2026 سے لاگو ہو گی۔ 2023 اور 2024 کے ایڈہاک الاؤنس ابھی بنیادی تنخواہ سے باہر ہیں مندرجہ بالا تنخواہوں میں اضافہ صرف ملازمین کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے کیا اس احتجاج کی قیادت اگیگا کے رہن
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے بجٹ کے حصے کے طور پر دو موجودہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ کے ڈھانچے میں ضم کرنے کی منظوری دی۔ یہ ہیں: ARA-2022: بجٹ 2022-23 میں 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا گیا ARA-2025: بجٹ 2025-26 میں دی
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے بجٹ کے حصے کے طور پر دو موجودہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ کے ڈھانچے میں ضم کرنے کی منظوری دی۔ یہ ہیں: ARA-2022: بجٹ 2022-23 میں 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا گیا ARA-2025: بجٹ 2025-26 میں دی
اسلام آباد: رحمان باجواہ کی قیادت میں دہرنا جاری ہے ملازمین کے مسائل کا حل حکومت کی مجبوری ہے کیوں ہزاروں کی تعداد میں ملازمین پارلیامنٹ ہائوس کے سامنے کہڑے ہیں رحمان باجواہ اس وقت ملازمیں کے اتحاد کی ضمانت ہے دوکھہ نہیں ہوگا دھرنا جاری ہو سکتا ہے اگر حکومت مزید ٹال
کراچی: آج 12 جون 2026 کو رحمان باجواہ کی قیادت میں پارلیامنٹ ہائوس کے سامنے دہرنا کرنے والے تمام ملازمین کی جرآت اور جدوجھد کو سلام ہے
For Membership

چلو چلو میرپورخاص 15 ستمبر 2025 اور حیدرآباد شھباز بلڈ نگ 16 ستمبر 2025 میں ملازمین اور وکرز بھرپور شرکت کریں

چلو چلو میرپورخاص 15 ستمبر 2025 اور حیدرآباد شھباز بلڈ نگ 16 ستمبر 2025 میں ملازمین اور وکرز بھرپور شرکت کریں
سندھ ایمپلائیز الائنس کے مطالبات کے اہم نقاط۔اور مقاصد جس کے لئے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے
****
چلو چلو شھباز بلڈنگ حیدرآباد چلو
16/9/2025
کو چلو بلا تفریق چلو بوقت 11بجہ صبح
آج 13 ستمبر 2025 حیدرآباد میں غیر معمولی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حیدرآباد ڈویژن کے دفاتر میں دفتری کام مکمل بند کئے جائیں گے اور یہ کسی ایک ملازم کا مسئلہ نہیں سندھ کے 7 لاکھ تقریبا 50 ہزار ملازمین کے معاشی قتل کا مسئلہ ہے ۔
اسلئے احتجاج اور جدوجھد میں بلا تفریق بھرپور شرکت کرنی ہوگی اور کوئی ٹال مٹول نہیں کرنے ہے
ایپکا شہید ساقی کے ساتھی اور ہم خیال دوست مسٹر نیاز حسین خاصخیلی
+923063046951
مسٹر مسرور خشک ٹھٹہ
+92 321 2686938
مسٹر ندیم احمد آرائیں
+92 323 3575071
مسٹر نعیم احمد
+923332603090
مسٹر غلام نبی سیال
+923151377117
اور مسٹر امید علی آمڑو
+923003084628
سے رابطہ کریں۔
ہم سب کا سندھ حکومت سے مطالبہ ہے ڈسپیئرٹی رڈکش لائسنس وفاقی حکومت کی طرز پر منظور کیا جائے
اسکے علاوہ پینشن کے کالے قانون کا خاتمہ کیا جائے اور ملازم دشمن پینشن پالیسی سندھ حکومت واپس لے اور پینشن حق یے 1986 اور 2001 کو بحال کیا جائے پینشن خیرات نہیں پینشن کے معاملات 30 جون 2025 تک جس قانون پر عملدرآمد ہوتا رہا یے اسکو دوبارہ آئینی حق تسلیم کیا جائے اور بلوچستان حکومت کی طرز پر گروپ انشورنس اور بھبود فنڈ کی رقم یکمشت ریٹائرمنٹ کے وقت ادائگی کو منظور کیا جائے یہ اھم نکات ہے
ملازم اتحاد زندہ اباد۔
اسکے حصول کیلئے سندھ ایمپلائیز الائنس کی قیادت کے زیر احتمام 16 ستمبر 2025 کو شھباز بلڈنگ حیدرآباد سے گل سینٹر و جیم خانہ تک احتجاجی ریلی ہوگی اسکو کامیاب کرنے کیلئے حیدرآباد ڈویژن کے تمام ملازمین کو بلا تفریق بھرپور شرکت کرنے کی اپیل ہے ساتھیو دفاتر اور گھروں سے نکلنا ہوگا اور بھرپور احتجاج میں شرکت کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے ، ملازمین تنظیمیں سب ساتھ ہیں کوئی بہانہ نہیں چلے گا ۔
یاد رہے ملازمین کے دیگر اور محکماتی مسائل اتحاد میں شامل تنظیمیں اپنے اپنے فورم پر حل کرنے کے مجاز ہونگی۔