APCA Header
آہم خبریں
حیدرآباد: پینشن حق ہے خیرات نہیں پینشن کے پرانے رولز بحال کئے جائیں پینشن و تنخواہوں میں اضافہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں کیا جائے ۔ www.apcapk.com
حیدرآباد: تمام ملازمین کو ڈسپیرٹی رڈکشن الائونس طرز کا رلیف نہیں مگر تنخواہ دار طبقہ کو انکم ٹیکس -کٹوتی سے استشنئ دیا جائے www.apcapk.com
حیدرآباد: سندھ کے ملازمین 8 جون 2026 کو کراچی میں میگا دھرنا کرین گے دھرنے کا مقصد اسکیل روائیز کرنا اور سندھ حکومت نے جو مطالبات التوا میں رکھیں انکی منظوری ہے٬ پینشن حق ہے ٬ گروپ انشورنس اور بھبود فنڈ کی رقم ریٹائرمنٹ کے وقت ادائگی ملازمین کا آئینی حق ہے-ملازم ا
حیدرآباد: تنخواہوں میں اضافہ اور اکتوا میں پڑے ہوئے مسائل کے ہل کیلئے ینگ ٹیچر ا؛ائنس کے زیر اہتمام احتجاج کی تاریخ 23/5/2026 قمام : پریس کلب حیدرآبادن میں احتجاج ہوگا بوقت: 10 بجہ صح چلو چلو پریس کلب حیدرآباد چلو بلا تفریق چلو
حیدرآباد: ملازمین نمائندہ تنظیموں کے رہنماء نے کہا کہ ملازمین کو سڑکوں پر آنے کا کوئی شوق نہیں مگر حکومت ملازمین اور پینشنرز کا معاشی احتصالی کیا جا رہا ہے
حیدرآباد: سپلا اور ہے تے الف کی میزبانی کے تحت آج حیدرآباد میں اجلاس جاری ہے سول ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے جدوجھد کو تیز کرنے پر غور کیا جا رہا
حیدرآباد: وفاق اور صوبائی حکومتیں ملازمین کا حق غذب کرکے رکھا ہے رلیف کیلئے شرط *ملازم کا مرنا* اس فنڈ سے ورثاء کو خیرات دی جاتی ہے٫ خیرات نہیں ریٹائرمنٹ کے وقت *یکمشت بھبود فنڈ اور گروپ انشورنس کی رقم ادائگی کا حق دیا جائے* ۔
حیدرآباد: صوبائی صدر ایپکا پاکستان شھید ساقی سندھ اعجاز بھٹو نے حیدرآباد ڈویژنل ایگزیکٹیو باڈی کا نوٹیفکیشن جاری کیا چیئرمین ندیم احمد آرائین، کلیم اللہ جوکھیو صدر و دیگر شامل ہیں
گوجرانوالہ: ڈسپیئرٹئ رڈکشن الائونس طرز کی مراعات نہیں برابری کی بنیادوں پر وفاقی آئینی عدالت طرز اور صدارتی اور قومی اسیمبلی اور سیکریٹریٹ ملازمین ۔کی طرز مراعات کے ساتھ ساتھ اسکیل روائیز کئے جائیں
گوجرانوالہ: سول ملازمین کو انکم ٹیکس کٹوتی سے استشنئ دی جائے ، بھاری ٹیکسز کا بوجھ سرکاری ملازمین پر ڈالنا ناانصافی ہے
For Membership

PENSION IN CASE OF RE-EMPLOYMENT/ APPOINTMENT AFTER RETIREMENT (Policy withdrawn)

فکر نا فاقہ عیش کر کاکہ-
کیا ریٹائرمنٹ کے بعد آفسران کے علاوہ کوئی چھوٹا ملازم بہی بہرتی ہوتا ہے؟
وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر بوجھ صرف سرکاری سول لائیں ڈپارٹمنٹ ملازمین اور پینشنرز ہیں ۔
ملک کا خزانہ کرپشن اور غیر معیاری مٹیریل کے استعمال اور ٹھیکیداروں اور نجکاری کے نام پر لوٹ مار جاری ہے کیوں کی اس میں حکومتی لوگ صف اول کے کام میں مصروف ہیں !
دوسری جانب حکومت کا وہ فیصلہ بھی واپس لیا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن یا تنخواہ لینا بوجھ قرار دیا گیا تھا اب دوبارہ دونوں مراعات پہلے کی طرح حاصل ہونگی تو 2024 کے نئے بھرتی ملازمین کی پیشن بار کیوں ہے ؟ اور انکی تنخواہوں سے %10 فیصد کٹوتی بھی ناانصافی ہے!
پینشن حق ہے خیرات نہیں مگر سرمایہ داری اور ٹھیکیداری نظام کو ترجیح میں سرکاری ملازمین وزراء اور مشیران حکومت کو کیوں لگ رہا ہے بوجھ بن گئے ہے افسوس