APCA Header
آہم خبریں
گوجرانوالا: ملازمین کے مشترکہ لاہور احتجاج کے 10 فروری 2026 کی مکمل حمایت کرتے ہیں ایپکا شہید ساقی کے صوبائی و مرکزی رہنماء شھباز چھٹہ اور ملک الطاف کی قیادت میں بھر پور شرکت ہوگی اور پنجاب بھر کے دیگر ساتھی بھی اپنے اپنے حصہ کا فرض ادا کریں
گوجرانوالا: ملازمین کے مشترکہ لاہور احتجاج کے 10 فروری 2026 کی مکمل حمایت کرتے ہیں ایپکا شہید ساقی کے صوبائی و مرکزی رہنماء شھباز چھٹہ اور ملک الطاف کی قیادت میں بھر پور شرکت ہوگی اور پنجاب بھر کے دیگر ساتھی بھی اپنی اپنی حصہ فرض ادا کریں
اسلام آباد: اسلام آباد میں وزات خزانہ سیکریٹریٹ کے سامنے رحمان باجواہ چیف کوآرڈینیٹر اگیگا پاکستان کی قیادت میں 26جنوری 2026 کو گیارہ بجے احتجاج ہوگا -رحمان باجواہ
کراچی: ملک بھر کے ملازمین ساتھیو جنوری 26 سال2026 کو اپنے اپنے دفتر میں بلوچستان کے ملازمین کے ساتھ مکمل یکجھتی کرتے ہوئے اپنے بازوں پر سیاح پٹیاں باندھ کر احتجاج رکارڈ کرائیں اور احتجاج بھی کر سکتے ہیں - ایپکا شہید ساقی
کوئٹہ: پروفیسر عین الدین کبزئی پہلے #معطل کیا اور اب #تنخواہ_کی_بندش میں جُھکا نہیں ، مَیں بکا نہیں ، کہیں چُھپ چُھپا کے کھڑا نہیں...! جو ڈٹے ہُوئے ہیں مَحاذ پر ، مُجھے اُن صفوں میں تلاش کر...!
کراچی: بلوچستان میں ملازمین کو 90 دن کیلئے سسپینڈ کرنا نااہلی ہے ایسے ہتھکنڈوں سے ملازمین کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جا سکتا ہے ملازمین کے جائز مطالبات جلد منظور کرکے ملازمین کی بیچینی ختم کرائی جائے- ایپکا شہید ساقی
حیدرآباد: وفاقی طرز پر 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس کے حق میں ڈٹ جانے والے، جیل بھرو تحریک - پولیس گاڑیوں میں بیٹھ کر رضاکارانہ گرفتاری دینے والے بلوچستان گرینڈ الائنس سرکاری ملازمین کی جدوجہد کو سرخ سلام!
کوئٹہ: معطل اساتذہ و ملازمین کی فوری بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ حکومت بلوچستان گرینڈ الائنس سے سنجیدہ مذاکرات کرے اور جون 2025ء سے زیر التواء مطالبات پر عملدرآمد کا باضابطہ اعلان کرے۔
کوئٹہ: بلوچستان میں اساتذہ و ملازمین کے بنیادی اور جائز حق حاصل کرنے کے لیے پرامن احتجاج پر جاری ریاستی جبر، گرفتاریوں اور ان کی معطلیوں پر عوامی ورکرز پارٹی شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے اور اس کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔
کراچی: وفاقی طرز کا ڈسپیئرٹی رڈکشن الائونس صوبائی ملازمین کی تذلیل.کاسبب کیوں جب کہ آئیں کا.ارٹیکل 25 اور38 ملازمین کو حق دیتا ہےکہ ملازمین کو.یکساں مراعات دی جائیں تو صوبائی حکومتین بلخصوص بلوچستان, پنجاب وسندھ وفاقی حکومت کی طرز پر مراعات دینے سے انکاری کیوں؟
For Membership

PENSION IN CASE OF RE-EMPLOYMENT/ APPOINTMENT AFTER RETIREMENT (Policy withdrawn)

فکر نا فاقہ عیش کر کاکہ-
کیا ریٹائرمنٹ کے بعد آفسران کے علاوہ کوئی چھوٹا ملازم بہی بہرتی ہوتا ہے؟
وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر بوجھ صرف سرکاری سول لائیں ڈپارٹمنٹ ملازمین اور پینشنرز ہیں ۔
ملک کا خزانہ کرپشن اور غیر معیاری مٹیریل کے استعمال اور ٹھیکیداروں اور نجکاری کے نام پر لوٹ مار جاری ہے کیوں کی اس میں حکومتی لوگ صف اول کے کام میں مصروف ہیں !
دوسری جانب حکومت کا وہ فیصلہ بھی واپس لیا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن یا تنخواہ لینا بوجھ قرار دیا گیا تھا اب دوبارہ دونوں مراعات پہلے کی طرح حاصل ہونگی تو 2024 کے نئے بھرتی ملازمین کی پیشن بار کیوں ہے ؟ اور انکی تنخواہوں سے %10 فیصد کٹوتی بھی ناانصافی ہے!
پینشن حق ہے خیرات نہیں مگر سرمایہ داری اور ٹھیکیداری نظام کو ترجیح میں سرکاری ملازمین وزراء اور مشیران حکومت کو کیوں لگ رہا ہے بوجھ بن گئے ہے افسوس